ازقلم: مجیب الرحمن بن محمد صدیق
شرقِ وسطیٰ میں امن: ایک فیصلہ کن موڑ
مشرقِ وسطیٰ کی دھرتی پر تاریخ کا ایک انتہائی نازک اور فیصلہ کن موڑ آ پہنچا ہے۔ عالمی سیاست کا بغور مطالعہ کرنے والے اس تلخ حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ اس خطے کی کوکھ سے جنم لینے والے تمام تر بحرانوں کا سرچشمہ صرف وہ بیرونی طاقتیں نہیں ہیں جنہیں ہم روزِ اول سے اپنا دشمن مانتے آئے ہیں، بلکہ اس تباہی میں اس سے کہیں زیادہ بڑا ہاتھ ان نقاب پوشوں کا ہے جو اسلام اور اسلامی اخوت کا نعرہ لگا کر مسلم امت کے جگر میں پے در پے خنجر گھونپتے رہے ہیں۔ ایک طویل عرصے سے خلیج اور مشرقِ وسطیٰ کو آگ و خون کے کھیل میں دھکیلنے کی منصوبہ بندی کی جاتی رہی، جس کا بنیادی مقصد خطے کے پرامن اور خوشحال اسلامی ممالک کے وجود کو متزلزل کرنا تھا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ حق اور باطل کے اس معرکے میں صبر و تحمل کا ایک ایسا مظاہرہ بھی دیکھنے کو ملا جس کی مثال معاصر سفارت کاری میں کم ہی ملتی ہے۔
حرمین شریفین کے دفاع میں سعودی عزم کا اعلان
چند برس قبل سعودی دفاعی فورسز کے ترجمان میجر جنرل ترکی بن صالح المالکی نے ایک انتہائی معنی خیز، پُروقار اور تاریخ ساز بیان دیتے ہوئے یمنی حوثی باغیوں اور ان کی ڈوریاں ہلانے والے ماسٹر مائنڈز کو خبردار کیا تھا۔ انہوں نے اپنے دوٹوک اور جاندار الفاظ میں کہا تھا: “ہم سعودی اتنی آسانی سے غصہ نہیں ہوتے، لیکن جب ہمیں غصہ آتا ہے تو پھر ہم انتہائی سخت، غیر متوقع اور نپی تلی کارروائی کرتے ہیں۔” یہ جملہ محض کسی ملٹری ترجمان کی روایتی پریس کانفرنس کا حصہ نہیں تھا، بلکہ یہ ایک غیرت مند، خوددار اور غیور قوم کا وہ باضابطہ اعلان تھا جو دہائیوں کے ضبط اور برداشت کے بعد سامنے آیا۔ سعودی عرب نے ہمیشہ امن، بھائی چارے اور ہمسائیگی کے تقاضوں کا پاس رکھا، مگر جب اس کی سرحدوں، اس کے شہریوں اور اس کی خودمختاری پر شب خون مارنے کی کوشش کی گئی تو ریاض کے حکمرانوں نے دنیا کو دکھا دیا کہ اپنے وقار کی حفاظت کیسے کی جاتی ہے۔
سعودی وزیرِ خارجہ کا ایران کی دوغلی پالیسیوں پر انکشاف
اسی سلسلے کی ایک مضبوط اور فیصلہ کن کڑی حالیہ دنوں میں اس وقت دیکھنے کو ملی جب سعودی وزیرِ خارجہ جناب شہزادہ فیصل بن فرحان نے بین الاقوامی میڈیا اور سفارتی ایوانوں کے سامنے تہران کی دہائیوں پر محیط منافقانہ اور دوغلی پالیسیوں کا پردہ چاک کر دیا۔ عالمی ذرائع ابلاغ کے کیمروں کے سامنے، انتہائی مدلل، ٹھوس اور باوقار انداز میں سعودی وزیرِ خارجہ نے اس پرفریب ڈرامے کا خاتمہ کر دیا جو اسلامی یکجہتی کے نام پر رچایا جا رہا تھا۔ انہوں نے واشگاف اور بے باک الفاظ میں دنیا کے سامنے حقیقت رکھتے ہوئے کہا کہ ایران ایک طرف تو عالمی برادری میں یہ کھوکھلا دعویٰ کرتا ہے کہ وہ دنیا بھر کے مسلمانوں اور اسلام کی بالادستی کا واحد محافظ اور علمبردار ہے، لیکن دوسری طرف اس کی تمام تر عملی کارروائیاں، اس کا جنگی جنون اور اس کا جنگجو ایجنڈا ترکیہ اور سعودی عرب جیسے مستحکم، باوقار اور اہم ترین مسلم ممالک کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے پر مبنی ہے۔
آج کرۂ ارض پر بسنے والا ہر غیرت مند اور باشعور مسلمان سعودی وزیرِ خارجہ کے اس جرأت مندانہ موقف کو دل و جان سے سراہ رہا ہے اور ان کے الفاظ کو تاریخ کا سچا دستاویز قرار دے رہا ہے۔ آخر یہ کیسا اسلامی دفاع ہے جس کی بنیاد ہی مسلم ریاستوں کی اینٹ سے اینٹ بجانے، وہاں کی معیشت کو تباہ کرنے اور بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے پر رکھی گئی ہو؟ اگر غیر جانبداری سے مشرقِ وسطیٰ کے نقشے کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ یمن میں حوثی باغیوں کی مسلح سرپرستی ہو، عراق میں ‘حشد الشعبی’ جیسے غیر قانونی اور موازی مسلح گروہوں کی تشکیل ہو، لبنان کی خوبصورت اور پُرجمہور ریاست کو ‘حزب اللہ’ کے ذریعے اپنے یرغمال میں لینا ہو، یا پھر شام کی سرزمیں پر اپنے ہی نہتے اور مظلوم شہریوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے جابر و سفاک حکمرانوں کا کھل کر ساتھ دینا ہو—ان تمام خونچکاں داستانوں کے تار ایک ہی مرکز سے جا کر ملتے ہیں۔
یمن، عراق، لبنان اور شام میں ایرانی پراکسیز
کیا یمن کے معصوم بچوں کو بھوک اور بمباری کے جہنم میں دھکیلنا، عراق کے معاشی و سیاسی استحکام کو پارہ پارہ کرنا، لبنان جیسی پھلتی پھولتی معیشت کو کلمہ گو بھائیوں کے نام پر تباہی کی دلدل میں دھکیلنا اور شام کے لاکھوں بے گھر شہریوں کے قتلِ عام میں برابر کا شریک ہونا اسلام کے مقاصد کی حمایت کہلا سکتا ہے؟ ہرگز نہیں! تاریخ کبھی اس بربریت کو معاف نہیں کرے گی۔ یہ سب صرف اور صرف وہ کھوکھلے، جذباتی اور پرفریب نعرے ہیں جن کی اوٹ میں تہران اپنے توسیع پسندانہ، فرقہ وارانہ اور خطے پر نام نہاد غلبے کے ایجنڈے کو چھپانے کی ناکام کوششیں کرتا چلا آیا ہے۔
ایران کی سب سے بڑی بدقسمتی یہ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ خود کو عالمِ اسلام کا نام نہاد ٹھیکیدار ثابت کرنے کے لیے زبانی کلامی اور جذبات سے بھری تقریروں کا سہارا لیا، لیکن جب عملی میدان میں قدم رکھنے کا وقت آیا تو اس نے ہمیشہ اپنے ہی محسنوں اور مسلم بھائیوں کے پیٹ میں چھرا گھونپنے سے گریز نہیں کیا۔ مشرقِ وسطیٰ کے خوبصورت، تاریخی اور معاشی لحاظ سے اہم ترین خطوں—لبنان، لیبیا، عراق، شام اور یمن—میں غیر قانونی، غیر آئینی اور انسانیت سوز دہشت گرد پراکسیز کو ناصرف کھلم کھلا مالی و سیاسی سپورٹ فراہم کرنا بلکہ انہیں تباہ کن، مہلک اور جدید ترین ڈرون و میزائل ٹیکنالوجی منتقل کرنا تہران کا معمول بن چکا ہے۔ جب بھی ان خطوں میں امن و امان کی کوئی ننھی سی شمع روشن ہونے لگتی ہے، یہ پراکسیز فوراً حرکت میں آتی ہیں اور خطے کے پرامن ماحول کو ڈرون حملوں اور بارود کی بو سے آلودہ کر دیتی ہیں۔
قطر، کویت اور بحرین پر ایرانی جارحیت کے تلخ تجربات
اس سے بھی زیادہ دردناک اور افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ تاریخ میں جس جس مسلم ملک نے بھی ایران کو سچا اسلامی بھائی سمجھ کر اس کا ہاتھ تھامنے کی کوشش کی یا عالمی سفارت کاری میں اسے تنہائی سے نکالنے کے لیے اپنا کندھا فراہم کیا، ایران نے بدلے میں اسی کو نقصان پہنچایا اور اسی کی سرحدوں پر حملے کروائے۔ اس حوالے سے قطر کی مثال ایک کھلا ہوا سبق ہے۔ قطر نے پاکستان کے ساتھ مل کر ایران اور امریکہ کے درمیان دہائیوں سے جاری شدید کشیدگی اور معاشی تعطل کو ختم کروانے کے لیے انتہائی مخلصانہ اور پرخلوص ثالثی کا کردار ادا کیا۔ قطر نے اپنے بین الاقوامی اثر و رسوخ کو داؤ پر لگا کر دونوں فریقین کو مذاکرات کی میز پر لانے میں کلیدی کردار ادا کیا تاکہ ایرانی عوام کو عالمی معاشی تنہائی سے نجات مل سکے۔
لیکن بدلے میں ایران کا رویہ کیا تھا؟ انتہائی بے وفائی اور تکبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے، ایران کی پشت پناہی میں چلنے والے عناصر نے قطر ہی کی مقدس اور پرامن سرزمین کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا! اس بے جا تجاوز، حملے اور بدعہدی پر قطر جیسا صبر و ضبط والا ملک بھی خاموش نہ رہ سکا اور اسے مجبوراً اقوامِ متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانا پڑا، جہاں اس نے ایران کی اس کھلی جارحیت کے خلاف باضابطہ شکایت درج کرواتے ہوئے بھاری ہرجانہ ادا کرنے کی قرارداد جمع کروائی۔
یہ سفارتی بدعہدی اور عسکری جارحیت صرف قطر تک محدود نہیں رہی۔ کویت اور بحرین جیسے پرامن، خوشحال اور پرسکون خلیجی ممالک بھی ایرانی پشت پناہی میں پلنے والی دہشت گرد فورسز کی بربریت اور اشتعال انگیزی سے محفوظ نہ رہ سکے۔ ان ممالک کی شہری آبادیوں، اقتصادی مراکز اور توانائی کی تنصیبات پر پے در پے میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے تاکہ خلیج کے امن کو تباہ کر کے وہاں خوف اور عدم استحکام کی فضا قائم کی جا سکے۔ اور ابھی حال ہی میں دنیا نے دیکھا کہ سعودی عرب کی مقدس اور امن پسند سرزمین پر جازان، ابھا، اور عالمی سمندری تجارت کے اہم ترین راستے ‘باب المندب’ جیسے حساس ترین علاقوں میں حوثی باغیوں کو جدید ترین ہتھیار فراہم کر کے سعودی عرب کی شہری تنصیبات پر بزدلانہ اور سفاکانہ حملے کروائے گئے۔
ایرانی وزیرِ خارجہ کا حوثی باغیوں کے معاملے پر متضاد بیان
لیکن منافقت کی انتہا اور سفارتی ڈھٹائی دیکھیے کہ ان کھلے حملوں اور تحریبی کارروائیوں کے فوری بعد جب ایرانی وزیرِ خارجہ عالمی ذرائع ابلاغ کے سامنے آئے تو انہوں نے انتہائی صریح منافقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ بیان داغ دیا کہ “یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی عرب کے درمیان یہ ان کا اپنا باہمی تنازع ہے، وہ جیسے مرضی اس کو حل کریں، ہمارا اس معاملے سے کوئی لینا دینا نہیں!” یہ ایک ایسا منافقانہ جملہ تھا جس نے ثابت کر دیا کہ آگ لگانے والا خود کو کتنا پارسا ظاہر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
ایران پر عالمی معاشی پابندیاں اور سفارتی تنہائی
تاہم، اب زمانہ بدل چکا ہے اور دنیا اب نعروں اور ڈراموں سے آگے نکل چکی ہے۔ ایران نے دہائیوں سے جو دوغلی پالیسی، فرقہ وارانہ تقسیم اور منافقت کا جال بن رکھا تھا، اب عالمی برادری اور خود مسلم دنیا نے اس کی ان تمام چالاکیوں کو انتہائی باریک بینی اور گہرائی سے بھانپ لیا ہے۔ آج عالمِ اسلام ہی نہیں بلکہ دنیا کا کوئی بھی سنجیدہ، باوقار اور ذمہ دار ملک تہران کے بیانات اور سفارتی دعووں کو سنجیدگی سے لینے کے لیے تیار نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آئے روز ایران کے اوپر عالمی معاشی پابندیوں کے پہاڑ گرائے جا رہے ہیں اور وہ خود ساختہ سفارتی تنہائی کی تاریک سرنگ میں دھکیلا جا چکا ہے۔
سابقہ دور میں جب امریکہ نے 14 نکاتی معاہدے کی روشنی میں ایران کو تیل بیچنے کی مشروط اور محدود اجازت دی اور اس کی دم گھٹتی معیشت کو آکسیجن فراہم کی، تو ایرانی حکمران یہ خام خیالی اور غلط فہمی پال بیٹھے کہ شاید وہ اتنے طاقتور ہو چکے ہیں کہ وہ پوری دنیا کی معیشت کو کنٹرول کر سکتے ہیں اور کسی بھی ملک کو اپنے گھٹنوں پر لا سکتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی تہران نے اپنی پرانی روش پر لوٹتے ہوئے خطے کے ممالک کو آنکھیں دکھانا اور سلامتی کو خطرے میں ڈالنا شروع کیا، تو امریکہ اور عالمی طاقتوں نے فوری طور پر سخت ترین پابندیاں دوبارہ بحال کر دیں اور ایران کے گرد معاشی و سفارتی گھیرا تنگ کر دیا۔
سعودی عرب کے دفاع میں پاکستان کا اصولی موقف
اسی اثناء میں جب ایرانی وزیرِ داخلہ نے پاکستان کا دورہ کیا اور 14 نکاتی معاہدے کی بحالی سمیت دیگر دوطرفہ امور پر بات چیت کی کوشش کی، تو پاکستان نے ایک ذمہ دار، غیرت مند، اصول پسند اور وفادار اسلامی ریاست کا تاریخ ساز کردار ادا کیا۔ پاکستان نے کسی بھی قسم کے سفارتی لچک یا مصلحت کا شکار ہونے کے بجائے، یمن کے حوثی باغیوں اور ان کے پسِ پردہ بیٹھے سہولت کاروں کے خلاف انتہائی سخت، دوٹوک اور واضح موقف اپنایا۔ پاکستان کی جانب سے جاری کی جانے والی باضابطہ پریس ریلیز نے دنیا بھر پر یہ واضح کر دیا کہ پاکستان اپنے سب سے مخلص، آزمودہ اور دیرینہ دوست اسلامی ملک سعودی عرب کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔ پاکستان نے عالمی طاقتوں کو صاف بتا دیا کہ حرمین شریفین کا تحفظ، سعودی عرب کا وقار اور اس کی سلامتی پاکستان کے لیے ریڈ لائن ہے اور اس کے دفاع کے لیے ہم ہر ممکن حد تک جائیں گے۔
سعودی عرب اور پاکستان تعلقات: ایک روحانی رشتہ
سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان تعلقات محض دو ممالک کے درمیان کاغذی یا سفارتی معاہدہ نہیں ہیں، بلکہ یہ لافانی، عقیدت مندانہ، اور روحانی رشتے ہیں جو گزشتہ کئی دہائیوں سے اعتماد کی مضبوط ترین بنیادوں پر قائم ہیں۔ سعودی عرب نے تاریخ کے ہر موڑ پر—چاہے وہ معاشی ابتری ہو، قدرتی آفات ہوں یا سفارتی مشکلات—ہمیشہ ایک بڑے بھائی کی طرح پاکستان کا ہاتھ تھاما ہے اور ہمیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑا۔ دوسری طرف عالمی سطح پر بھی جب کبھی مسلم امت کو کوئی چیلنج درپیش ہوا ہے، چاہے وہ مظلوم فلسطینیوں پر ہونے والے مظالم ہوں، شام اور لبنان کے عوام کا انسانی بحران ہو، سعودی عرب نے ہمیشہ امتِ مسلمہ کی سب سے توانا اور بااثر آواز بن کر عالمی ایوانوں میں حق کا پرچم بلند کیا ہے۔
ویژن 2030: شاہ سلمان اور ولی عہد محمد بن سلمان کی قیادت
آج کا نیا سعودی عرب، خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود اور روشن خیال، عزمِ مصمم کے مالک ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان آل سعود کی باکمال اور انقلابی قیادت میں دن رات ترقی، تجدید اور خوشحالی کی نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ ویژن 2030 کے تحت سعودی عرب ناصرف معاشی و معاشی خودانحصاری کی بلندیوں کو چھو رہا ہے بلکہ خطے میں امن، استقامت اور پائیدار ترقی کا سب سے بڑا مرکز بن کر ابھرا ہے۔ سعودی قیادت کا پیغام بالکل واضح اور دوٹوک ہے: جو کوئی بھی حرمین شریفین کی مقدس سرزمین، سعودی عرب کی سالمیت یا اس کے امن کو نقصان پہنچانے کی ناپاک جسارت کرے گا، اس کا وجود اور اس کا غرور پاش پاش کر دیا جائے گا۔
سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کا سفارتی کردار
اس تاریخی اور پختہ دوستی کو سفارتی محاذ پر نئی بلندیوں تک پہنچانے میں پاکستان میں متعین سعودی عرب کے محترم اور معزز سفیر نواف بن سعید المالکی کا کردار ایک روشن باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ نواف بن سعید المالکی صاحب طویل عرصے سے پاکستان میں اپنی خدمات جس محبت، اخلاص، اور اعلیٰ درجے کی سفارتی بصیرت کے ساتھ سرانجام دے رہے ہیں، اس نے دونوں اقوام کے دباؤ اور باہمی تعلق کو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط بنا دیا ہے۔ انہوں نے اسلام آباد اور ریاض کے تعلقات کو محض سرکاری دفاتر سے نکال کر پاکستان کے عوام کے دلوں میں لا بٹھایا ہے۔ ان کی انتھک کاوشیں دونوں ممالک کی دوستی کی تاریخ میں ہمیشہ سنہرے حروف سے لکھی جائیں گی۔
نتیجہ: امتِ مسلمہ کے لیے سبق
حقیقت یہ ہے کہ اب وقت کا تقاضا ہے کہ امتِ مسلمہ نعروں، پراکسیز اور منافقت کے پردے میں چھپے چہروں کو پہچانے اور ان طاقتوں کا ہاتھ مضبوط کرے جو عملاً اسلامی دنیا کی ترقی، وقار اور حرمین شریفین کے تقدس کے لیے کوشاں ہیں۔ سعودی عرب اور پاکستان کا اتحاد خطے کی سلامتی اور دشمنوں کے تمام تر مذموم عزائم کی ناکامی کی سب سے بڑی اور حتمی ضمانت ہے!
