اقوام متحدہ کے جوہری نگران ادارے (آئی اے ای اے) کے سربراہ رافیل گروسی نے کہا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق ایران کا افزودہ یورینیئم اب بھی اس کی جوہری تنصیبات میں موجود ہو سکتا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس کی حتمی تصدیق کے لیے معائنہ کاروں کو دوبارہ متعلقہ تنصیبات تک رسائی درکار ہوگی۔ ان کے مطابق اسرائیلی اور امریکی حملوں سے قبل افزودہ یورینیئم کی کسی بڑی منتقلی کے شواہد سامنے نہیں آئے، جبکہ موجودہ جائزہ سابقہ معائنوں اور سیٹلائٹ تصاویر کی بنیاد پر لگایا گیا ہے۔
