لاہور ہائی کورٹ نے بجلی کے بلوں میں شامل کیپسٹی چارجز اور بجلی پیدا کرنے والی نجی کمپنیوں کو ادائیگیوں کے خلاف دائر درخواست ناقابلِ سماعت قرار دیتے ہوئے خارج کر دی ہے۔
عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ توانائی اور ٹیرف سے متعلق پالیسی سازی حکومت اور پارلیمنٹ کا اختیار ہے، جبکہ عدلیہ اقتصادی اور مالیاتی پالیسیوں میں مداخلت نہیں کر سکتی۔ فیصلے کے مطابق درخواست گزار بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ثابت کرنے میں ناکام رہا، اس لیے عدالت کے لیے مداخلت کا کوئی قانونی جواز موجود نہیں تھا۔
عدالت نے مزید واضح کیا کہ نجی بجلی کمپنیوں کو کی گئی ادائیگیوں کی واپسی کا حکم دینا بھی عدالتی دائرۂ اختیار میں شامل نہیں۔
