اسرائیل میں ایران اور لبنان کے ساتھ جنگ بندی پر عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید ناراضی پائی جا رہی ہے۔ سروے کے مطابق بڑی تعداد میں شہری اس معاہدے کے خلاف ہیں اور آئندہ ایک سال میں دوبارہ جنگ کا خدشہ ظاہر کر رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو پر الزام عائد کیا جا رہا ہے کہ وہ جنگی اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہے اور نتائج کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس صورتحال کو حکومتی ناکامی قرار دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کی طاقت مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی جبکہ اسرائیل کی پالیسیوں پر امریکا کے اثرات بھی واضح ہیں، جس کے باعث نیتن یاہو کو اندرونِ ملک مزید سیاسی دباؤ کا سامنا ہو سکتا ہے۔
جنگ بندی پر اسرائیلی عوام برہم، نیتن یاہو شدید تنقید کی زد میں
