ایران میں واقع چابہار بندرگاہ پر بھارت کی سرمایہ کاری کو شدید دھچکا لگا ہے، کیونکہ امریکی پابندیوں سے متعلق رعایت 26 اپریل 2026 کو ختم ہو چکی ہے اور اس کی بحالی کے امکانات کم نظر آ رہے ہیں۔
رپورٹس کے مطابق یہ بندرگاہ بھارت کے لیے تجارتی اور تزویراتی لحاظ سے نہایت اہم تھی، جس کے ذریعے وہ افغانستان اور وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرتا تھا، تاہم موجودہ حالات نے اس منصوبے کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔
امریکا کی سخت پالیسیوں اور ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی نے صورتحال کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے، جبکہ سمندری راستوں پر خطرات بھی بڑھ گئے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق بھارت اب اس منصوبے کو عارضی طور پر روکنے یا مکمل طور پر الگ ہونے جیسے آپشنز پر غور کر رہا ہے۔
رپورٹس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بھارت بندرگاہ کا انتظام کسی ایرانی ادارے کے حوالے کرنے پر غور کر سکتا ہے تاکہ مستقبل میں واپسی کی گنجائش برقرار رکھی جا سکے۔
