سعودی عرب اور فرانس کے درمیان اقتصادی تعلقات تیزی سے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان تجارت اب صرف تیل اور توانائی تک محدود نہیں رہی بلکہ ٹیکنالوجی، ایرو اسپیس، صحت، سیاحت، انفراسٹرکچر، ماحولیات اور ڈیجیٹل معیشت جیسے شعبے بھی اہمیت اختیار کر رہے ہیں۔
عرب نیوز کے مطابق 2025 میں فرانس نے سعودی عرب کو تقریباً 4.5 ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کیں، جبکہ فرانس کے لیے سعودی عرب کی برآمدات تقریباً 3.7 ارب ڈالر رہیں۔ ماضی میں سعودی عرب سے فرانس کی درآمدات زیادہ تھیں، تاہم توانائی کے ذرائع میں تنوع اور تیل کی نسبتاً کم قیمتوں نے اس صورتحال کو تبدیل کیا۔
فرانکو عرب چیمبر آف کامرس کے ڈائریکٹر ڈومینیک برونین کے مطابق یہ تبدیلی سعودی عرب کی وژن 2030 کے تحت جاری معاشی تبدیلیوں سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ مملکت تیل پر انحصار کم کرتے ہوئے معیشت کو نئے شعبوں میں وسعت دے رہی ہے، جس سے فرانسیسی کمپنیوں کے لیے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔
فرانسیسی کمپنیوں کے لیے سعودی عرب کیوں اہم ہے؟
سعودی عرب میں جاری بڑے ترقیاتی منصوبوں نے فرانسیسی کاروباری اداروں کی دلچسپی میں اضافہ کیا ہے۔ خاص طور پر:
- ڈیجیٹل ٹیکنالوجی
- صحت اور میڈیکل سروسز
- سیاحت
- انفراسٹرکچر
- ماحولیات
- صنعتی آلات
- ایرو اسپیس
- پرفیوم اور کاسمیٹکس
فرانسیسی کمپنیوں کی تکنیکی مہارت اور بیرونِ ملک بڑے منصوبوں پر کام کرنے کا تجربہ سعودی عرب کی نئی ضروریات سے مطابقت رکھتا ہے۔
ڈومینیک برونین نے ویولیا کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ کمپنی سعودی عرب میں صنعتی فضلے کی صفائی اور پانی کی فراہمی سے متعلق منصوبوں پر کام کر رہی ہے۔
تعلقات صرف مصنوعات کی فروخت تک محدود نہیں
فرانسیسی کمپنیوں کی سعودی عرب میں بڑھتی موجودگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات محض برآمدات اور درآمدات تک محدود نہیں رہے۔ اب فرانسیسی کمپنیاں مقامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر سعودی معیشت کی ترقی میں بھی کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
یہ تعاون بڑی کمپنیوں کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں تک بھی پھیل رہا ہے۔
سعودی سرمایہ کاری فرانس میں بھی بڑھ سکتی ہے
دوسری جانب سعودی عرب نے فرانس کے رئیل اسٹیٹ، مالیاتی شعبے اور بعض فرانسیسی کمپنیوں میں سرمایہ کاری کی ہے، اگرچہ مجموعی طور پر یہ سرمایہ کاری متحدہ عرب امارات اور قطر کے مقابلے میں کم نمایاں دکھائی دیتی ہے۔
تاہم برونین کے مطابق تمام سرمایہ کاری عوامی سطح پر ظاہر نہیں کی جاتی۔ سعودی سرمایہ کاری کے ذمہ دار ادارے کی جانب سے پیرس میں دفتر کھولنا اس بات کا اہم اشارہ قرار دیا جا رہا ہے کہ دونوں ممالک باہمی سرمایہ کاری کو مزید بڑھانے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
یوں سعودی عرب اور فرانس کے تعلقات میں تیل مرکزی حیثیت سے نکل کر ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری، صنعت اور جدید معیشت کی وسیع شراکت داری کی طرف بڑھتے دکھائی دے رہے ہیں۔
