پاکستانی فوج سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں کے تحت پہلے ہی موجود ہے، اور یہ موجودگی کئی دہائیوں پر محیط ہے۔ آئی ایس پی آر کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے بدھ کو بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان فوجی تعاون کوئی نیا عمل نہیں بلکہ طویل عرصے سے جاری تعلقات کا حصہ ہے۔
اہم جھلکیاں
- آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستانی فوج سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجود ہے۔
- پاکستانی اہلکار مختلف صلاحیتوں اور شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔
- پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان سفارتی، سیاسی اور دفاعی روابط طویل عرصے سے قائم ہیں۔
- مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت تینوں ممالک نے دفاعی تعاون اور تیاری مزید مؤثر بنانے پر اتفاق کیا ہے۔
واقعے کی تفصیلات اور پس منظر
آئی ایس پی آر کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے سی این این کے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستانی فوجی اور اہلکار سعودی عرب میں کئی دہائیوں سے موجود ہیں۔ ان کے مطابق مکہ اتحاد اچانک وجود میں آنے والا انتظام نہیں بلکہ پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان پہلے سے موجود سفارتی، سیاسی، عسکری اور عوامی روابط کی بنیاد پر تشکیل پانے والا تعاون ہے۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ نے مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے کے تحت اپنے اجتماعی دفاعی وعدوں پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کیا ہے۔ ریاض میں پیر کو ہونے والے ہنگامی اجلاس کے بعد جاری مشترکہ بیان کے مطابق سعودی عرب میں متفقہ فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی تیز رفتار تعیناتی منظور شدہ انتظامات اور متعلقہ ممالک کے قومی قوانین کے مطابق کی جائے گی۔
مکہ مشترکہ دفاعی معاہدہ رواں سال اگست میں پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان طے پایا تھا۔ معاہدے کے تحت ایک رکن ملک پر مسلح حملے کو تمام رکن ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ حالیہ فیصلوں کا مقصد دفاعی تیاری، فوجی انضمام اور مشترکہ صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
سرکاری مؤقف یا آئندہ کے اقدامات
آئی ایس پی آر کے مطابق سعودی عرب میں پاکستانی فوج کی موجودگی پہلے سے جاری دوطرفہ دفاعی تعاون کا حصہ ہے، جبکہ نئے انتظامات کے تحت تینوں ممالک کے درمیان مشترکہ دفاعی صلاحیت اور تیاری کو مزید مربوط کیا جائے گا۔
Disclaimer: This article is prepared for informational purposes based on available information and reported statements. News, policies, and official positions may change over time. Readers are advised to verify important information through official sources and trusted news outlets. Our website does not intend to mislead readers or present unverified claims as confirmed facts.
