ذات صلة

جمع

ریاض میں فلپائنی جڑی بچیوں کی 18 گھنٹے طویل کامیاب سرجری

ریاض کے کنگ عبداللہ سپیشلائزڈ چلڈرن ہسپتال میں سعودی...

مسجد الاقصی میں خلاف ورزیوں پر 8 مسلم ممالک کی مشترکہ مذمت

سعودی عرب، پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے...

غیر مجاز کلینیکل پریکٹس پر پی ایم ڈی سی کا سخت مؤقف

پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے غیر مجاز کلینیکل...

انو کپور کا انکشاف، اوم پوری پر بہن کی زندگی متاثر کرنے کا الزام

بالی ووڈ اداکار انو کپور نے سینئر اداکار اوم...

پاکستان انڈر-16 ٹیم یوئیفا ڈیولپمنٹ ٹورنامنٹ میں شرکت کے لیے قازقستان روانہ

پاکستان انڈر-16 فٹبال ٹیم قازقستان میں ہونے والے یوئیفا...

العلا کا روایتی ذخیرہ نظام—‘الشنہ’ میں کھجوریں پانچ سال تک محفوظ

سعودی عرب کے تاریخی علاقے العلا میں کھجوروں کو محفوظ رکھنے کے روایتی طریقوں “الشنہ” اور “المجلاد” کو اجاگر کرنے کے لیے فیسٹیول کے نویں سیزن کا انعقاد کیا گیا۔ اس قدیم روایت کا مقصد نئی نسل کو وہ طریقے دکھانا ہے جن سے آباؤ اجداد کھجوروں کو بجلی اور فریج کے بغیر بھی سالوں تک محفوظ رکھتے تھے۔

ماہرِ ثقافت ڈاکٹر حامد الشویکان کے مطابق “الشنہ” بکری یا بھیڑ کی کھال سے بنا مشکیزہ ہوتا ہے، جس میں کھجور یا اس کا گودا ایک سے پانچ برس تک محفوظ رہتا ہے۔ ماضی میں مسافر سفر کے دوران اسی ذخیرے پر انحصار کرتے تھے، جبکہ قحط کے دور میں یہ کھجوریں لوگوں کے لیے بڑی سہارا بنتی تھیں۔

اسی طرح “المجلاد” کھجور کے سوکھے پتوں سے بنی ٹوکری ہے، جس میں رکھی کھجوریں تازہ ہوا کی آمدورفت کے سبب خراب نہیں ہوتیں۔ جدید دور میں بھی العلا کے کاشتکار ان روایتی طریقوں کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔

العلا رائل کمیشن فیسٹیولز، نمائشوں اور کاشتکاروں کی مدد کے ذریعے اس تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کے لیے فعال کردار ادا کر رہا ہے، تاکہ یہ قدیم ثقافت آنے والی نسلوں تک منتقل ہوتی رہے۔