ذات صلة

جمع

سعودی پولٹری پیداوار 14 لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی

سعودی عرب میں پولٹری کے شعبے نے 2026 کے...

سعودی عرب میں پاکستانی فوج پہلے سے موجود، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں...

جرمن خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ گرفتار

جرمنی کی وفاقی خفیہ ایجنسی بی این ڈی کے...

سائبیریا میں طاعون کی وباء کی خبر مسترد

روس کے صدارتی محل کریملن نے سائبیریا میں طاعون...

فلسطینی ماں کی جنگ میں بیٹے کی پیدائش

غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون امل العبادیہ...

آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی: کیا یہ عالمی قانون کے مطابق درست ہے؟

بین الاقوامی قانون کے ماہر ڈوگلس گیولفولے کے مطابق سمندری ناکہ بندی کو معاشی دباؤ کے ایک طریقے کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے، مگر اس کے لیے سخت قانونی شرائط بھی موجود ہیں۔

ان کے مطابق ایسی ناکہ بندی میں غیر متعلقہ تجارتی جہازوں کو گزرنے کی اجازت دینا ضروری ہوتا ہے اور اسے مؤثر اور سب پر یکساں لاگو ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی لازمی ہے کہ اس کے اثرات عام شہریوں پر منفی نہ پڑیں، خاص طور پر خوراک اور ادویات کی فراہمی متاثر نہ ہو۔

ماہرین کے مطابق ان شرائط کو مدنظر رکھتے ہوئے ہی کسی بھی ناکہ بندی کو بین الاقوامی قوانین کے تحت جائز یا ناجائز قرار دیا جا سکتا ہے۔