ماہرینِ صحت نے خبردار کیا ہے کہ ہیٹ ویو کے دوران پانی کی کمی اور جسمانی درجہ حرارت میں اچانک تبدیلی گردوں کی صحت کو متاثر کر سکتی ہے، جس سے گردوں کی پتھری اور الیکٹرولائٹ عدم توازن جیسے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔
ان کے مطابق صرف زیادہ پانی پینا کافی نہیں بلکہ اسے وقفے وقفے سے مناسب مقدار میں لینا ضروری ہے، کیونکہ ایک ساتھ زیادہ پانی پینے سے جسم میں سوڈیم کی کمی ہو سکتی ہے جو تھکن اور چکر کا باعث بنتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پسینے کے ذریعے جسم سے نکلنے والے نمکیات کی کمی سے کیلشیم، آکسیلیٹ اور یورک ایسڈ جمع ہو کر پتھری بنا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ سافٹ ڈرنکس اور انرجی ڈرنکس کا زیادہ استعمال گردوں پر اضافی دباؤ ڈالتا ہے۔
ابتدائی علامات میں گہرے یا کم مقدار میں پیشاب، بدبو، پیاس میں اضافہ، تھکن اور کمر یا پہلو میں درد شامل ہیں۔
احتیاط کے طور پر دن بھر وقفے وقفے سے پانی پینے، سادہ پانی کو ترجیح دینے، پھلوں اور سبزیوں کے استعمال اور شدید دھوپ کے بعد فوری ٹھنڈے شاور سے بچنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
