ذات صلة

جمع

سعودی پولٹری پیداوار 14 لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی

سعودی عرب میں پولٹری کے شعبے نے 2026 کے...

سعودی عرب میں پاکستانی فوج پہلے سے موجود، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں...

جرمن خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ گرفتار

جرمنی کی وفاقی خفیہ ایجنسی بی این ڈی کے...

سائبیریا میں طاعون کی وباء کی خبر مسترد

روس کے صدارتی محل کریملن نے سائبیریا میں طاعون...

فلسطینی ماں کی جنگ میں بیٹے کی پیدائش

غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون امل العبادیہ...

!سعودی عرب میں بڑا فیصلہ—اب “صرف کیش” کہنا مہنگا پڑ سکتا ہے

سعودی عرب میں حکومت نے ادائیگی کے نظام کو مزید شفاف اور جدید بنانے کے لیے نئے سخت قواعد نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت دکاندار اب صارفین کو صرف نقد ادائیگی تک محدود نہیں رکھ سکتے۔

نئے ضوابط کے مطابق کسی بھی کاروباری ادارے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کارڈ اور دیگر ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقوں کو قبول کرے۔ “کیش اونلی” کا بورڈ لگانا یا بغیر کسی حقیقی تکنیکی مسئلے کے “نیٹ ورک ڈاؤن” کا بہانہ بنانا اب قانون کی خلاف ورزی شمار ہوگا۔

اس کے علاوہ کارڈ کے ذریعے ادائیگی پر اضافی چارج لینا بھی مکمل طور پر ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان قوانین کا مقصد صارفین کو سہولت فراہم کرنا اور ادائیگی کے نظام میں شفافیت کو فروغ دینا ہے۔

ان ہدایات کی خلاف ورزی کرنے والوں کو 1,000 سے 5,000 سعودی ریال تک جرمانہ ہو سکتا ہے، جبکہ بار بار خلاف ورزی کی صورت میں سزا مزید سخت ہو سکتی ہے، جس میں کاروبار کی عارضی بندش بھی شامل ہے۔

👉 یہ اقدام سعودی عرب کو تیزی سے ڈیجیٹل اور کیش لیس معیشت کی طرف لے جانے کا حصہ ہے۔