لندن کے ایک پرائمری اسکول میں آٹھ سالہ ہندو طالب علم کو پیشانی پر تلک لگانے پر ذہنی دباؤ اور ہراسانی کا سامنا کرنا پڑا، جس کے باعث وہ اسکول چھوڑنے پر مجبور ہو گیا۔
بین الاقوامی رپورٹس کے مطابق سماجی تنظیم انسائٹ یوکے نے بتایا کہ اسکول کے عملے نے بچے سے اس مذہبی نشان کے بارے میں بار بار وضاحت مانگی اور دورانِ وقفہ اس کی غیر معمولی نگرانی کی گئی۔
اس رویے کے نتیجے میں بچہ خوفزدہ ہو گیا اور کھیل کود سے کنارہ کشی اختیار کر لی۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس اسکول میں مذہبی بنیادوں پر دیگر بچوں کے ساتھ بھی امتیازی سلوک کے واقعات سامنے آئے ہیں۔
