ذات صلة

جمع

کلغی دار چڑیا، صحرا کی فطرت سے ہم آہنگ منفرد پرندہ

سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں پائی جانے والی...

جازان کے پہاڑی علاقے العارضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

سعودی عرب کے جازان ریجن کی العارضہ کمشنری اپنے...

سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی سلمان خان کی اپیل

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخری آرام گاہ سے متعلق انکشاف کر دیا

پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی...

وزیر خزانہ کا اعتراف: کاروباری لاگت کم کرنا ناگزیر ہے

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے تسلیم کیا ہے کہ بعض کمپنیاں پاکستان چھوڑ رہی ہیں، جس کی بڑی وجہ زیادہ ٹیکس اور توانائی کے مہنگے نرخ ہیں۔ پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ حکومت کاروبار کو سستا بنانے کے لیے ڈیوٹیز اور ٹیرف نظام میں اصلاحات کر رہی ہے، جن کے تحت خام مال پر ٹیکس کم کیے جا رہے ہیں۔

ان کے مطابق ان تبدیلیوں سے برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں کو فروغ ملے گا اور قومی خزانے پر دباؤ کم ہوگا۔ وزیر خزانہ نے بتایا کہ ٹیکس پالیسی اب فنانس ڈویژن کے تحت ہے جبکہ ایف بی آر صرف وصولیوں پر توجہ دے رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ گزشتہ سال ترسیلات زر 38 ارب ڈالر رہیں اور اس سال یہ 41 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ حکومت جون تک تمام سرکاری ادائیگیوں کو ڈیجیٹل بنانے کا بھی منصوبہ رکھتی ہے تاکہ معیشت کو زیادہ شفاف اور مضبوط بنایا جا سکے۔