اسلام آباد میں صوبائی اسمبلی کی طرز پر ایک علیحدہ قانون ساز اسمبلی کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ اس حوالے سے سفارشات وزیراعظم شہباز شریف کو ارسال کی گئی ہیں، تاہم ابھی تک وفاقی کابینہ کی جانب سے اس تجویز کی حتمی منظوری نہیں دی گئی۔
وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال کے مطابق وفاقی دارالحکومت کے لیے علیحدہ قانون ساز اسمبلی کی ضرورت اس لیے محسوس کی گئی ہے کیونکہ اسلام آباد سے متعلق قانون سازی اس وقت قومی اسمبلی کے ذریعے کی جاتی ہے۔ نئی اسمبلی کے قیام کا مقصد وفاقی دارالحکومت کے مقامی معاملات کے لیے ایک الگ قانون ساز فورم فراہم کرنا بتایا جا رہا ہے۔
اس معاملے پر سفارشات تیار کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس کی سربراہی وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے کی۔ کمیٹی میں وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ بھی شامل تھے۔
وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ کے مطابق یہ معاملہ ابھی سفارشات کے مرحلے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فی الحال وفاقی کابینہ نے نئی اسمبلی کے قیام کی منظوری نہیں دی اور سفارشات کو آئندہ کابینہ کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے واضح کیا ہے کہ نئی قانون ساز اسمبلی سے متعلق سفارشات اور ممکنہ قانون سازی میں اس کا براہ راست کردار نہیں۔ الیکشن کمیشن کے مطابق قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا آئینی اختیار ہے۔
اب اہم سوال یہ ہے کہ اگر وفاقی کابینہ اس تجویز کی منظوری دیتی ہے تو اسلام آباد کے لیے نئی اسمبلی کے قیام کا قانونی اور آئینی طریقہ کار کیا ہوگا۔ اس کے ساتھ یہ بھی طے کرنا ہوگا کہ نئی اسمبلی کے اختیارات، ارکان کے انتخاب اور وفاقی حکومت کے ساتھ اس کے انتظامی تعلقات کی نوعیت کیا ہوگی۔
فی الحال یہ معاملہ حتمی فیصلے کے بجائے سفارشات تک محدود ہے، اس لیے نئی اسمبلی کے قیام کو ایک منظور شدہ حکومتی منصوبہ قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ آئندہ کابینہ کے فیصلے اور ممکنہ قانون سازی اس تجویز کی عملی حیثیت واضح کریں گے۔
Disclaimer: This article has been independently rewritten for informational and news-reporting purposes based on publicly available information. The views, statements, and claims mentioned in the report are attributed to their respective sources. Readers are advised to verify important developments through official sources.
