ذات صلة

جمع

9/11 حملوں کی 25ویں برسی، ٹرمپ کے پرانے دعوے ایک بار پھر زیرِ بحث

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے 11 ستمبر 2001 کے دہشت گرد حملوں کے بعد اپنے کردار سے متعلق بیان ایک بار پھر امریکی میڈیا اور عوامی حلقوں میں زیرِ بحث آگیا ہے۔

واشنگٹن میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے بتایا کہ حملوں کے بعد ایک غیر مستحکم عمارت کے قریب موجودگی کے دوران دو فائر فائٹرز نے انہیں محفوظ مقام تک پہنچایا تھا۔ صدر نے اپنے بیان میں کہا کہ انہیں خدشہ تھا کہ عمارت ان کے اوپر گر سکتی ہے، جس کے بعد فائر فائٹرز نے انہیں وہاں سے نکلنے میں مدد دی۔

ٹرمپ کے یہ تازہ ریمارکس ان کے ان سابقہ بیانات کے پس منظر میں سامنے آئے ہیں جن میں وہ 9/11 حملوں کے بعد نیویارک کے گراؤنڈ زیرو جانے اور وہاں امدادی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا ذکر کرتے رہے ہیں۔ تاہم امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس حوالے سے بعض ایسے افراد نے مختلف مؤقف پیش کیا جو اس وقت گراؤنڈ زیرو پر موجود تھے۔

25ویں برسی کی تقریب کہاں ہوگی؟

11 ستمبر 2001 کے حملوں کی 25ویں برسی کے موقع پر ٹرمپ نیویارک کے گراؤنڈ زیرو کے بجائے واشنگٹن میں واقع پینٹاگون میں منعقد ہونے والی یادگاری تقریب میں شرکت کریں گے۔

ان حملوں میں مجموعی طور پر 2,977 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ نیویارک میں ہونے والی مرکزی یادگاری تقریبات میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور سابق صدور جو بائیڈن، براک اوباما، بل کلنٹن اور جارج ڈبلیو بش کی شرکت متوقع ہے۔

ٹرمپ اور وائٹ ہاؤس نے ان رپورٹس کی تردید کی ہے کہ انہیں نیویارک کی 9/11 یادگاری تقریب میں خطاب کرنے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے انہوں نے پینٹاگون جانے کا فیصلہ کیا۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ نیویارک کی تقریب ایک سنجیدہ اور پُرسکون یادگاری تقریب ہوتی ہے جہاں عام طور پر تقاریر نہیں کی جاتیں۔

ٹرمپ کا تازہ بیان

وائٹ ہاؤس میں منعقدہ تقریب کے دوران ٹرمپ نے 9/11 کے دن کے واقعات کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ٹیلی ویژن پر حملوں کی خبر دیکھی اور بعد ازاں اپنی عمارت سے باہر کے مناظر دیکھے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وہ ایک تعمیراتی منصوبے کی نگرانی کر رہے تھے اور حملوں کے بعد اپنے عملے کے افراد کو متاثرہ علاقے میں لے گئے تھے۔

اسی تقریب میں ٹرمپ نے رضاکار فائر فائٹر ویلز کراؤتھر کے خاندان کو امریکا کا اعلیٰ ترین شہری اعزاز بھی پیش کیا۔ کراؤتھر 9/11 حملوں کے دوران ساؤتھ ٹاور میں لوگوں کو محفوظ مقام تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہوئے جان کی بازی ہار گئے تھے۔

وہ بعد میں “Man in the Red Bandana” کے نام سے مشہور ہوئے، کیونکہ عینی شاہدین نے انہیں سرخ رومال سے چہرہ ڈھانپے ہوئے لوگوں کی مدد کرتے دیکھا تھا۔

9/11 کی 25ویں برسی کے موقع پر امریکی صدر کی تقریبات میں شرکت اور ان کے ماضی کے بیانات ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئے ہیں، جبکہ مختلف دعووں کے حوالے سے امریکی میڈیا میں متضاد بیانات بھی سامنے آتے رہے ہیں۔

Disclaimer: This article is based on publicly available reports and information from cited news sources. Details and claims mentioned in the report may be subject to further verification or clarification. This content is published for news and informational purposes only and does not necessarily represent the views of the publisher.