امریکا اور کینیڈا کے درمیان جاری تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے، کیونکہ واشنگٹن نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی مختلف الکوحل مصنوعات، بائیکس اور بعض ڈیری اشیا پر نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے۔ امریکی حکومت کے مطابق یہ پابندیاں 29 ستمبر سے نافذ العمل ہوں گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف بھی نافذ ہوچکے ہیں۔ کینیڈین حکام کے مطابق ان اقدامات کا مقصد امریکی تجارتی پالیسی کے جواب میں اپنے معاشی مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
رپورٹس کے مطابق کینیڈا کی جانب سے عائد کیے گئے نئے محصولات تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی امریکی اشیا کو متاثر کریں گے۔ ان میں اسٹیل، فرنیچر، کپڑے، الیکٹرانکس اور دیگر مصنوعات شامل ہیں، جبکہ مختلف اشیا پر 15 سے 50 فیصد تک ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔
دوسری جانب امریکا کی نئی پابندیوں کے دائرے میں بیئر، مختلف اقسام کی وائن، وہسکی، رم، ووڈکا اور دیگر الکوحل مشروبات شامل کیے گئے ہیں۔ بعض ڈیری مصنوعات اور دیگر اشیا کے حوالے سے بھی تجارتی پابندیوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔ کچھ پنیر کی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے، تاہم انہیں مکمل درآمدی پابندی کا سامنا نہیں ہوگا۔
کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی نے تجارتی کشیدگی کے دوران ملکی معیشت کو متبادل تجارتی مواقع کی جانب منتقل کرنے پر زور دیا ہے۔ ان کے مطابق موجودہ صورتحال میں کینیڈا کو اپنی اقتصادی حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی ضرورت ہے۔
تجارتی تنازع کے باعث شمالی امریکا کے اہم تجارتی معاہدے، USMCA، کے مستقبل کے حوالے سے بھی خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور کینیڈا کے درمیان اقدامات کا یہ سلسلہ مزید بڑھتا ہے تو اس کے اثرات تجارت، سرمایہ کاری اور معاشی ترقی پر پڑ سکتے ہیں۔
امریکا اور کینیڈا کئی دہائیوں سے ایک دوسرے کے اہم تجارتی شراکت دار رہے ہیں، تاہم حالیہ ٹیرف اور جوابی اقدامات نے دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔
دریں اثنا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے خلاف مزید تجارتی اقدامات کے اشارے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔ امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے نمائندوں کے درمیان رابطے جاری ہیں، تاہم فی الحال باضابطہ تجارتی مذاکرات کا آغاز نہیں ہوا۔
ماہرین کے مطابق آنے والے ہفتے اس لیے اہم ہوسکتے ہیں کہ دونوں حکومتیں موجودہ تجارتی اختلافات کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے کوئی متبادل راستہ تلاش کرتی ہیں یا نہیں۔
Disclaimer: This article has been independently rewritten and presented for informational and news-reporting purposes based on the information provided to us. While reasonable efforts are made to maintain accuracy, readers are advised to verify important details through official sources. This content does not constitute financial, legal, political, or investment advice.
