ذات صلة

جمع

کلغی دار چڑیا، صحرا کی فطرت سے ہم آہنگ منفرد پرندہ

سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں پائی جانے والی...

جازان کے پہاڑی علاقے العارضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

سعودی عرب کے جازان ریجن کی العارضہ کمشنری اپنے...

سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی سلمان خان کی اپیل

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخری آرام گاہ سے متعلق انکشاف کر دیا

پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی...

ایران پر امریکی پابندیوں کی تاریخ: اہم مراحل اور پس منظر

امریکا اور ایران کے تعلقات گزشتہ کئی دہائیوں سے کشیدہ رہے ہیں، جس کے نتیجے میں مختلف ادوار میں ایران پر متعدد اقتصادی، مالی اور سفارتی پابندیاں عائد کی گئیں۔

یہ سلسلہ 1979ء کے اسلامی انقلاب اور تہران میں امریکی سفارت خانے کے یرغمالی بحران کے بعد شروع ہوا، جب امریکا نے ایرانی اثاثے منجمد کر دیے اور تجارتی پابندیاں نافذ کیں۔ بعد ازاں 1984ء میں ایران کو دہشت گردی کی سرپرستی کرنے والی ریاست قرار دے کر مزید پابندیاں عائد کی گئیں۔

1990ء کی دہائی میں ایران کے تیل اور توانائی کے شعبے کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ 2006ء سے ایران کے جوہری پروگرام کے باعث بین الاقوامی سطح پر بھی پابندیوں کا دائرہ وسیع ہوا۔ 2012ء میں مرکزی بینک اور تیل کی برآمدات پر سخت قدغنیں لگائی گئیں، جس سے ایرانی معیشت شدید دباؤ کا شکار ہوئی۔

2015ء میں جوہری معاہدے کے بعد پابندیوں میں کچھ نرمی آئی، تاہم 2018ء میں امریکا کی معاہدے سے علیحدگی کے بعد دوبارہ سخت پابندیاں نافذ کر دی گئیں۔ بعد کے برسوں میں بھی ایران کے تیل، بینکاری اور بین الاقوامی تجارتی روابط کو مختلف پابندیوں کا سامنا رہا۔

حالیہ برسوں میں مذاکرات اور کشیدگی دونوں ساتھ ساتھ چلتے رہے ہیں، جبکہ بعض مواقع پر محدود اقتصادی رعایتیں بھی دی گئیں، جنہیں دونوں ممالک کے درمیان ممکنہ پیش رفت کی علامت قرار دیا جاتا ہے۔