پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے کہا ہے کہ کوئی بھی بڑی تہذیب رکھنے والا ملک دھمکی اور دباؤ کے تحت مذاکرات نہیں کرتا۔
اپنے بیان میں انہوں نے اس مؤقف کو ایک اہم دینی و اصولی نقطہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی طاقتوں کو اس حقیقت کو سمجھنا چاہیے۔
اس سے قبل مسعود پزشکیان نے بھی کہا تھا کہ امریکا کی جانب سے متضاد پیغامات موصول ہو رہے ہیں اور بامعنی مذاکرات کے لیے معاہدوں کی پاسداری ضروری ہے۔
اسی حوالے سے باقر قالیباف کا کہنا تھا کہ دھمکیوں کے سائے میں ہونے والی بات چیت قابل قبول نہیں، اور ایران کسی دباؤ کے آگے نہیں جھکے گا۔
ایران کا دوٹوک مؤقف: دباؤ میں مذاکرات قبول نہیں
