کیوبا نے تصدیق کی ہے کہ دارالحکومت ہوانا میں امریکی حکام کے ساتھ حالیہ مذاکرات ہوئے، جنہیں باہمی احترام اور پیشہ ورانہ انداز میں قرار دیا گیا۔
کیوبا کے مطابق ان مذاکرات میں کسی قسم کی دھمکی یا ڈیڈ لائن نہیں دی گئی، جبکہ تیل سے متعلق پابندیوں کا خاتمہ ان کی اولین ترجیح ہے، جسے وہ معاشی دباؤ قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب امریکا نے مذاکرات کے تسلسل کے لیے سیاسی اصلاحات، قیدیوں کی رہائی اور معاشی کھلے پن سمیت کئی شرائط پیش کی ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات اور ممکنہ اقدامات کے باعث کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ توانائی بحران کے سبب کیوبا کو معاشی مشکلات کا سامنا ہے۔
عالمی سطح پر کئی ممالک نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مذاکرات کے ذریعے حل نکالنے پر زور دیا ہے۔
کیوبا اور امریکا کے درمیان مذاکرات، توانائی پابندی بڑا معاملہ
