یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران روس کو ہتھیار فراہم کر کے پہلے ہی یوکرین کے خلاف جنگ میں شامل ہو چکا ہے، اس لیے کسی بھی نئے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا ضروری ہے۔
ایک انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ ایران نے روس کو شاہد ڈرونز اور ان کی تیاری کی ٹیکنالوجی فراہم کی، جو یوکرین کے خلاف جنگ میں براہِ راست معاونت کے مترادف ہے۔ ان کے مطابق یوکرین کو خدشہ ہے کہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے۔
دوسری جانب ایران نے بحیرۂ کیسپین میں اپنے تجارتی جہاز پر مبینہ حملے کی مذمت کرتے ہوئے یوکرین سے احتجاج کیا ہے۔ ایران کے مطابق واقعے میں ایک اہلکار ہلاک اور ایک زخمی ہوا، جبکہ یوکرین کی جانب سے اس معاملے پر مختلف بیانات سامنے آئے ہیں۔
