ذات صلة

جمع

کلغی دار چڑیا، صحرا کی فطرت سے ہم آہنگ منفرد پرندہ

سعودی عرب کے حدودِ شمالیہ میں پائی جانے والی...

جازان کے پہاڑی علاقے العارضہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز بن گئے

سعودی عرب کے جازان ریجن کی العارضہ کمشنری اپنے...

سونم وانگچک سے بھوک ہڑتال ختم کرنے کی سلمان خان کی اپیل

بالی ووڈ اداکار سلمان خان نے سماجی کارکن سونم...

عطاء اللہ عیسیٰ خیلوی نے اپنی آخری آرام گاہ سے متعلق انکشاف کر دیا

پاکستان کے معروف گلوکار عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی...

سرخ لاری: ماضی کا سفری ساتھی اور ثقافتی ورثہ

ماضی میں سعودی عرب اور دیگر عرب ممالک میں سرخ رنگ کی پرانی لاری نہ صرف سفر کا اہم ذریعہ تھی بلکہ اب ثقافتی ورثے کی علامت بن چکی ہے۔ 1940 سے 1970 کی دہائی تک یہ امریکی ساختہ گاڑیاں، جیسے فورڈ ٹرک، دور دراز علاقوں کو شہروں سے جوڑنے میں استعمال ہوتی تھیں۔

مورخین کے مطابق لوگ ان لاریوں پر کئی دن کا سفر طے کرتے تھے، جنہوں نے سفر کو پہلے سے زیادہ آسان اور آرام دہ بنایا۔ یہ لاری صرف مسافر ہی نہیں، بلکہ تجارتی سامان جیسے کھجوریں، مصالحے، کپڑے اور مویشی بھی بازاروں تک پہنچاتی تھیں، یوں دیہی معیشت کو فروغ ملا۔

مقامی باشندے اب بھی ان لاریوں کی یادوں کو دل سے لگائے ہوئے ہیں، جن کی لکڑی کی فرش، کپڑے کی چھت اور سرخ رنگ کی خوبصورتی آج بھی ان کے ذہنوں میں نقش ہے۔ بعض ڈرائیور بغیر کرائے کے بھی لوگوں کو منزل تک پہنچاتے، جو اس دور کی سادگی اور باہمی ہمدردی کا مظہر تھا۔