ذات صلة

جمع

سعودی عرب اور امریکا کے درمیان پرامن جوہری تعاون کا معاہدہ طے

سعودی عرب اور امریکا نے جوہری توانائی کے پرامن...

فواد خان کے نئے انداز نے سوشل میڈیا پر بحث چھیڑ دی

پاکستان کے معروف اداکار اور گلوکار فواد خان کی...

رضوان علی جعفری نے ارینج میرج کے فیصلے کی وجہ بتا دی

پاکستانی اداکار اور ماڈل رضوان علی جعفری نے انکشاف...

حوثیوں کے بحری ناکہ بندی کے دعوے پر سعودی عرب کا سخت ردعمل

سعودی عرب نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کے خلاف بحری ناکہ بندی اور یمن کے محاصرے کے دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیا ہے۔

وزارت خارجہ کے مطابق سعودی عرب نے گزشتہ برسوں میں یمن کی قانونی حکومت کی مالی معاونت، ترقیاتی منصوبوں، بجلی گھروں کے لیے ایندھن کی فراہمی اور انسانی امداد کے ذریعے یمنی عوام کی مشکلات کم کرنے کی کوشش کی ہے۔

بیان میں حوثیوں پر عدن ایئرپورٹ، تیل کی تنصیبات، بحیرۂ احمر میں تجارتی جہازوں اور یمنیہ ایئرلائن کے طیاروں کو نشانہ بنانے جیسے اقدامات کا الزام بھی عائد کیا گیا، جن سے یمن کی معیشت اور عوام کو شدید نقصان پہنچا۔

سعودی حکومت کا کہنا ہے کہ حوثی اپنی معاشی ناکامیوں اور عوامی دباؤ سے توجہ ہٹانے کے لیے سعودی عرب پر جھوٹے الزامات لگا رہے ہیں، جبکہ مملکت کا مؤقف ہمیشہ یمن میں امن اور استحکام کی حمایت رہا ہے۔

سعودی عرب نے بین الاقوامی برادری سے سلامتی کونسل کی قراردادوں، خصوصاً 2216 اور 2722 پر عملدرآمد یقینی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی قانون کے مطابق اپنے تجارتی جہازوں کے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یمن میں عرب اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے بتایا کہ باب المندب سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی حفاظت کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں اور حوثیوں کی کسی بھی دھمکی کا فوری اور مؤثر جواب دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ یمنی بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کی بندش سے متعلق حوثیوں کے دعوے حقائق کے منافی ہیں، کیونکہ رواں سال کی پہلی ششماہی میں 300 سے زائد تجارتی جہاز شمالی یمن کی بندرگاہوں پر پہنچے، جبکہ صنعا ایئرپورٹ کی بندش کی ذمہ داری بھی خود حوثیوں پر عائد ہوتی ہے۔