وزیراعظم شہباز شریف نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کو ایک بار پھر مذاکرات کی پیشکش کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت بات چیت کے لیے تیار ہے، تاہم اس سے پہلے پی ٹی آئی کو اسلام آباد کی جانب جاری لانگ مارچ اور دھرنے کی سیاست ختم کرنا ہوگی۔ اسلام آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے خبردار کیا کہ احتجاج اور لانگ مارچ کا براہ راست اثر ملکی معیشت، برآمدات، درآمدات اور صنعتی سرگرمیوں پر پڑ سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومتی اتحاد نے باہمی مشاورت سے پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے اور سیاسی معاملات کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ پی ٹی آئی کا لانگ مارچ 4 اکتوبر کو شروع ہوا تھا اور پارٹی کے مطابق اس کی قیادت خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم نے اس موقع پر کہا کہ حکومت نے گزشتہ ڈھائی برس کے دوران معیشت کو بہتر بنانے کے لیے مسلسل کام کیا ہے اور سیاسی کشیدگی کے باعث ملک کی معاشی سرگرمیوں کو نقصان نہیں پہنچنا چاہیے۔ اسی تقریب کے دوران وزیراعظم نے آزاد جموں و کشمیر کونسل کے نومنتخب ارکان سے بھی حلف لیا اور خطے کی ترقی، عوامی مسائل کے حل اور وفاق و آزاد کشمیر کے درمیان تعاون مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔
Disclaimer
Disclaimer: This article has been independently rewritten based on the information provided in the source material and is intended for informational purposes only. While reasonable efforts have been made to present the information accurately, political developments may change over time. Readers are advised to verify important updates through official government statements and other credible news sources.
