نئی دہلی میں بھارت کی اپوزیشن جماعتوں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کے لیے احتجاجی مارچ کیا، جس کے دوران پولیس نے کانگریس رہنما راہول گاندھی، ان کی بہن پریانکا گاندھی اور دیگر اپوزیشن اراکین کو مختصر وقت کے لیے حراست میں لے لیا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ووٹر فہرستوں میں کی جانے والی حالیہ تبدیلیوں سے انتخابی شفافیت اور اہل ووٹرز کے حقِ رائے دہی سے متعلق خدشات پیدا ہوئے ہیں۔ پولیس نے احتجاج کے دوران راستے روکنے اور حفاظتی اقدامات کیے، جبکہ بعد ازاں حراست میں لیے گئے رہنماؤں کو رہا کر دیا گیا۔
اپوزیشن جماعتوں نے ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے عمل پر سوالات اٹھاتے ہوئے الیکشن کمیشن سے زیادہ شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔ دوسری جانب بھارتی الیکشن کمیشن اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹر فہرستوں میں جان بوجھ کر بے ضابطگی یا سیاسی فائدے کے الزامات کو مسترد کیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق فہرستوں کی نظرثانی کا مقصد ووٹر ریکارڈ کو درست کرنا اور غیر اہل یا جعلی اندراجات کی نشاندہی کرنا ہے۔
احتجاج کے دوران راہول گاندھی نے انتخابی عمل سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا، جبکہ حکمران جماعت کے رہنماؤں نے اپوزیشن کے الزامات کو گمراہ کن قرار دیا۔ اس معاملے پر بھارت میں احتجاجی سرگرمیاں گزشتہ کئی دنوں سے جاری ہیں اور ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کا معاملہ سیاسی بحث کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
Disclaimer: This article has been independently rewritten for informational purposes based on publicly available reports and statements from relevant parties. Political claims and allegations mentioned in this article are attributed to the respective sources and should not be treated as independently verified facts. Readers are advised to consult official sources and reliable news organizations for the latest updates.
