ذات صلة

جمع

سعودی پولٹری پیداوار 14 لاکھ ٹن سے تجاوز کرگئی

سعودی عرب میں پولٹری کے شعبے نے 2026 کے...

سعودی عرب میں پاکستانی فوج پہلے سے موجود، آئی ایس پی آر

پاکستانی فوج سعودی عرب میں مختلف صلاحیتوں اور شعبوں...

جرمن خفیہ ایجنسی کے سابق سربراہ گرفتار

جرمنی کی وفاقی خفیہ ایجنسی بی این ڈی کے...

سائبیریا میں طاعون کی وباء کی خبر مسترد

روس کے صدارتی محل کریملن نے سائبیریا میں طاعون...

فلسطینی ماں کی جنگ میں بیٹے کی پیدائش

غزہ سے تعلق رکھنے والی فلسطینی خاتون امل العبادیہ...

بھارت میں ووٹر لسٹ تنازع، سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن سے جواب طلب کر لیا

بھارت میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی کے معاملے پر سپریم کورٹ نے مرکزی حکومت اور الیکشن کمیشن آف انڈیا سے وضاحت طلب کرلی ہے۔ عدالت نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار سے متعلق ان درخواستوں پر بھی نوٹس جاری کیا جن میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی (SIR) سے متعلق بعض اہم فیصلے دیگر الیکشن کمشنرز کی منظوری کے بغیر کیے گئے۔ تاہم عدالت نے فی الحال گیانیش کمار کو معطل کرنے کا کوئی عبوری حکم جاری نہیں کیا۔ عدالت نے کہا کہ پہلے متعلقہ اداروں کا مؤقف اور ریکارڈ سامنے آنا ضروری ہے، جس کے بعد معاملے پر مزید کارروائی کی جائے گی۔

یہ تنازع بھارت میں انتخابی فہرستوں کی بڑے پیمانے پر نظرثانی کے بعد سامنے آیا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور بعض کارکنوں کی جانب سے انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں میں ہونے والی تبدیلیوں پر سوالات اٹھائے گئے ہیں، جبکہ الیکشن کمیشن کا مؤقف ہے کہ نظرثانی کا مقصد جعلی، دہرے یا غیر اہل اندراجات کی نشاندہی کرنا اور انتخابی فہرستوں کو درست بنانا ہے۔

سپریم کورٹ کی سماعت کے دوران چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن سے متعلق فیصلوں کا ریکارڈ طلب کرنے اور فریقین سے جواب لینے کی ہدایت کی۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر ریکارڈ سے قانون یا مقررہ طریقہ کار کی خلاف ورزی ثابت ہوئی تو متعلقہ فیصلوں کا دوبارہ جائزہ لیا جا سکتا ہے۔ اگلی سماعت 13 اکتوبر کو مقرر کی گئی ہے۔

اس معاملے کے ساتھ بھارت کے مختلف شہروں میں احتجاج بھی جاری ہیں۔ اپوزیشن جماعتوں اور دیگر گروہوں نے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، جبکہ الیکشن کمیشن اور حکمران بھارتیہ جنتا پارٹی نے ووٹر لسٹوں کی نظرثانی سے متعلق عائد کیے جانے والے الزامات کو مسترد کیا ہے۔

Disclaimer: This article is based on publicly available information and reported statements from relevant sources. It has been independently rewritten for informational purposes. Political and legal developments may change over time. Readers are advised to verify important information through official government, court and election commission sources.