ایمسٹرڈیم: بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) نے طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ اور افغانستان کے چیف جسٹس عبدالحکیم حقانی کے خلاف جاری کیے گئے وارنٹ گرفتاری سے متعلق مزید معلومات سامنے لائی ہیں۔ عدالت کے مطابق ججوں نے ان دونوں رہنماؤں پر الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کی حکومتی پالیسیوں کے نتیجے میں افغان شہریوں کے بنیادی حقوق اور آزادیوں کی سنگین خلاف ورزیاں ہوئیں۔ آئی سی سی کے مطابق خواتین اور لڑکیوں کو خاص طور پر تعلیم، آزادیٔ اظہار اور آزادانہ نقل و حرکت کے حقوق سے محروم کیے جانے کے معاملات بھی ان الزامات میں شامل ہیں۔ عدالت نے مزید بتایا کہ وارنٹس میں قتل، قید، تشدد، جنسی زیادتی اور جبری گمشدگی جیسے مبینہ اقدامات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق طالبان کی عائد کردہ پابندیوں کے باعث افغانستان میں تقریباً نصف خواتین اب ماہانہ صرف ایک یا دو مرتبہ اپنے گھروں سے باہر نکلتی ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارے UN Women کے مطابق افغانستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم اور خواتین کے لیے یونیورسٹی کی تعلیم پر پابندی برقرار ہے۔
Disclaimer: This article is based on information provided by international news reports and statements attributed to relevant institutions. It has been independently rewritten for informational purposes. Readers are advised to verify important developments through official sources and reputable news organizations, as legal and political situations may change over time.
