ایک نئی تجزیاتی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے حالیہ حملوں میں ایسی جدید جنگی حکمتِ عملی استعمال کی جس نے روایتی فضائی دفاعی نظاموں کی صلاحیت پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق جدید میزائل ٹیکنالوجی، ہائپرسونک رفتار، سائبر وار فیئر اور انٹیلی جنس نظام کو یکجا کر کے دور فاصلے سے اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ جنگی طیارے مخالف ملک کی فضائی حدود میں داخل بھی نہیں ہوئے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ ٹیکنالوجی مزید ممالک تک پہنچی تو مستقبل کی جنگیں زیادہ تیز، پیچیدہ اور خطرناک ہو سکتی ہیں، جہاں فیصلے کرنے کے لیے وقت انتہائی محدود رہ جائے گا۔
