پاکستان نے تاجکستان میں چینی شہریوں کی ہلاکت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ڈرون حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ دفترِ خارجہ کے مطابق چینی شہریوں پر دہشت گرد حملہ نہایت بزدلانہ کارروائی ہے اور ڈرون کے استعمال سے واقعے کی سنگینی صاف ظاہر ہوتی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان خود بھی افغان سرزمین سے ہونے والی دہشت گردی کا نشانہ بنتا رہا ہے، اس لیے افغانستان کا دہشت گردی کے لیے استعمال ہونا انتہائی تشویش ناک امر ہے۔ پاکستان نے واضح کیا کہ دہشت گرد گروہوں کی میزبانی افغان طالبان کی سرپرستی میں جاری ہے اور عالمی برادری بھی اس پر گہری تشویش رکھتی ہے۔
دفترِ خارجہ کے مطابق افغانستان سے سرگرم دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف عملی اور قابلِ تصدیق اقدامات ضروری ہیں۔ پاکستان نے چین اور تاجکستان کے ساتھ علاقائی امن و سلامتی کے لیے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا۔
واضح رہے کہ تاجک حکام کے مطابق 26 نومبر کی رات افغانستان سے ڈرون حملہ کیا گیا جس میں ایک چینی کمپنی کے تین ملازمین ہلاک ہوئے۔
