ایران میں دو ہفتوں تک جاری رہنے والے پُرتشدد مظاہرے تھم گئے ہیں اور شہروں میں زندگی آہستہ آہستہ معمول کی طرف لوٹ رہی ہے۔ بین الاقوامی فون سروس بحال کر دی گئی ہے تاہم انٹرنیٹ تاحال بند ہے۔ سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ مختلف مقامات سے غیر ملکی ساختہ اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا ہے۔
دوسری جانب وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی بیرونی فوجی اقدام کا بھرپور جواب دیا جائے گا اور امریکا پر منصفانہ مذاکرات میں سنجیدہ نہ ہونے کا الزام لگایا۔ جرمن قیادت پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے انسانی حقوق پر دوہرا معیار اپنانے کا بھی شکوہ کیا۔
امریکی صدر کی جانب سے ایرانی مظاہرین کی حمایت اور مزید احتجاج کی اپیلوں پر خطے میں سفارتی کشیدگی بدستور قائم ہے۔
