امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور ان کے قریبی مشیروں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ ایران کے خلاف کسی بھی فوجی قدم سے پہلے سفارتی راستہ اختیار کیا جائے۔ امریکی ذرائع ابلاغ کے مطابق وائٹ ہاؤس ایران کی جوہری مذاکرات کی پیشکش پر بھی غور کر رہا ہے، تاہم ٹرمپ فوجی آپشن کو بھی نظرانداز نہیں کر رہے۔
ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیوٹ نے واضح کیا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو صدر ٹرمپ طاقت کے استعمال سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، اگرچہ ان کی پہلی ترجیح سفارتکاری ہی رہے گی۔ ان کے مطابق آئندہ فیصلہ صدر خود کریں گے۔
